مرکزی صفحہ / بلاگ / پٹھان ہوٹل، ایک منفرد درس گاہ

پٹھان ہوٹل، ایک منفرد درس گاہ

چراگ سحری

پچھلے ایک سال سے لگاتار پٹھان ہوٹل ہماری درس گاہ بنا ہوا ہے. یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہم دوست بڑی ہی پابندی کے ساتھ اپنی اس درس گاہ میں آ رہے ہیں اور بڑے ہی اطمینان اور تسلی کے ساتھ دینی و دنیاوی تعلیم کا حقیقی معنوں میں تعمیری بحث و مباحثے کے ذریعے رائے کا اظہار کرتے ہیں. ہر کوئی ایک دوسرے کی رائے کا خندہ پیشانی کے ساتھ احترام کرتا ہے، بشرطیکہ وہ صحیح اور جامع ہو، وگرنہ بصورت دیگر اسے غلط قرار دے کر اسے واضح اور آسان لفظوں میں بیان کر کے اسے قابلِ قبول بنا دیا جاتا ہے.

ویسے پٹھان ہوٹل یا پھر یوں کہیں کہ ہماری درس گاہ کے طالب علم بشمول راقم خود یونیورسٹی سے فارغ ہو کر بھی اب بھی کسی نہ کسی شکل میں اپنے دوستوں کے ساتھ دن میں لازم ایک جگہ مل کر اسے پھر سے شروع کر دیتے، مگر اب لگاتار پٹھان ہوٹل ہماری درس گاہ بنا ہوا ہے.

ہماری درس گاہ میں سب برابر ہیں، ہم سارے اسٹوڈنٹس بھی ہیں اور سارے ٹیچرز بھی، ہر کوئی ایک نہ ایک شعبے میں ماہر ہے، اور یہی اس درس گاہ کی خاص بات ہے جو ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑتی ہے.

دنیا کی تمام یونیورسٹیز اور ہماری درس گاہ میں بہت فرق ہے؛ یونیورسٹی میں ظاہر سی بات ہے کہ طالب علم "Rules and Regulations ” کا پابند ہوتا ہے. اسے” well dressed” ہونا پڑتا ہے اور سب سے خاص اور اہم چیز جو باقی یونیورسٹیوں کو ہماری درس گاہ سے الگ بنا دیتی ہے، وہ ہے "Degree” جو چار سال پڑھنے کے بعد اسٹوڈنٹس کو سند کے طور پر ملتی ہے کہ بندا پڑھا لکھا ہے یا بندہ گریجویٹ ہے، وغیرہ وغیرہ.

لیکن معذرت، ہماری درس گاہ میں رولز اینڈ ریگولیشن ہوتے ہی نہیں ہیں اور نہ ہی اچھے کپڑے زیب تن کرنا ضروری ہے. بس کپڑے ہونے چاہئیں. نہ ہی چار سال کے بعد ہماری درس گاہ میں اسے ایسی کوئی سند مل جائے گی، اسے ہمارے درس گاہ میں ملے گی تو بس علم سے حقیقی معنوں میں آشنائی.

یوں تو دنیا میں تمام درس گاہوں کا کام ہوتا ہے طالب علم کو علم سے فیض یاب کر دینا، ہماری درس گاہ بھی اس کام کو بخوبی سر انجام دے رہی ہے. یونیورسٹی میں جس طرح مختلف شعبہ جات کے مختلف مضامین پڑھائے جاتے ہیں، ٹھیک اسی طرح ہماری درس گاہ میں بھی زندگی کے تمام پہلوؤں پر بحث کی جاتی ہے اور بعدازاں اتفاق رائے کے ساتھ بحث سمیٹ کر کلاس ختم کی جاتی ہے جو اگلے دن کسی اور موضوع کے ساتھ شروع کی جاتی ہے.

مزے کی بات یہ ہے کہ ہماری درس گاہ (پٹھان ہوٹل) میں اسپیشل چائے بھی ملتی ہے اور یہی ایک خاص بات ہے جو ہماری درس گاہ کو باقی تمام درس گاہوں سے الگ کر دیتی ہے کیوں کہ یہاں کلاس کے دوران بھی اسٹوڈنٹس لیکچر کے ساتھ ساتھ چائے کے کش سے بھی لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں.

ابھی حال ہی میں ہماری درس گاہ میں یونیورسٹی کے کچھ اسٹوڈنٹس کا ابھی نیا نیا داخلہ ہوا ہے. وہ یونیورسٹی کی کلاس ختم ہونے کے بعد ہماری درس گاہ پہنچ جاتے ہیں اور یہاں سے علم کی شمع سے روشناس ہوتے ہیں. ہماری درس گاہ میں کوئی فیس ادا نہیں کرنا پڑتی. بس چائے کا بل ادا کرنا پڑتا ہے، وہ بھی کبھی کبھی نہ کہ بار بار.

ہمارے معاشرے کی خوب صورتی اور علم کی بنیاد اسی طرح کے ماحول کی بدولت ہی ممکن ہے. ہمارے اس ملک کی نئی نسل کو اشد ضرورت ہے کہ وہ اس طرح کے علمی ماحول کو اپنی سرگرمیوں کا حصہ بنائیں تاکہ ہر جگہ علم کی روشنی میں ہر کوئی اپنی آنکھیں کھول سکے اور ان کی پرورش علم کے سائے میں ہو.

Facebook Comments
(Visited 81 times, 1 visits today)

متعلق چراگ سحری

چراگ سحری کا تعلق لیاری سے ہے۔ وفاقی اردو یونیورسٹی سے انگریزی ادب کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ قلمی نام سے بلوچی، اردو میں شاعری اور مضامین لکھتے ہیں۔ Email: bunnybaloch7@gmail.com