مرکزی صفحہ / سماجی حال / حب میں کیرئیر کونسلنگ کی تقریب کا انعقاد

حب میں کیرئیر کونسلنگ کی تقریب کا انعقاد

حب، خلیل رونجھو:

ہر معاشرے میں ہر شخص کی کوشش ہوتی ہے کہ ایک ایسا پیشہ اختیار کیا جائے جو بامقصد ہو، اور اس کے مزاج کے معین مطابق بھی ہو۔ تاکہ ہر کوئی اپنے معاش کے حصول کے ساتھ ساتھ معاشرے کی ترقی میں اپنی صلاحیتوں سے بھرپور حصہ ڈال سکے۔ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم کے دوران ہی بچوں کی صلاحیتوں اور رجحانات کو بھانپ کر ہی بچوں کو آگے بڑھایا جاتا ہے اور وہ اپنے رجحانات کے مطابق پیشہ اختیار کرتے ہیں اور یوں معاشرے کی ترقی میں اپنا بھرپور حصہ ڈالتے ہیں، اور اس ہی لیے ترقی یافتہ ممالک آگے ہی آگے بڑھتے جارہے ہیں

بد قسمتی سے ہمارے معاشرے بلخصوص پاکستان میں تعلیم کی کمی کی وجہ سے اکثر والدین اپنی یہ فرض نہں نبھاپاتے،مگر اپنی ہمت سے زیادہ بچوں کی تعلیم پر پیسہ خرچ کرتے ہیں اور خوائش رکھتے ہیں کہ ان کا بچہ بڑا ہوکرخوب ترقی کرے اور بڑا آدمی بن جائے۔مگر ان کے خواب اس وقت چکنہ چور ہوجاتے ہیں جب بچہ پڑھ لکھ کر ماسٹرز ڈگری حاصل کرلیتا ہے لیکن جاب کے لئے دھکے کھاتا ہے، اور اگر کسی طرح جاب مل بھی جائے تو کچھ دنوں بعد ہی جاب میں ناکام ہوکر فارغ کردیا جاتا ہے۔

ایسا کیوں ہوتا ہے؟
ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ بچے نے تعلیم تو حاصل کر لی مگر وہ تعلیم اس کی شخصیت، مزاج اور صلاحیتوں کے بلکل برعکس ہوتی ہیں، کیونکہ ہمارے ملک میں اسکول کالجز میں اساتذہ اپنے آپ کو بچے کی کیرئیر کونسلنگ اور مضامیں منتخب کرنے میں ان کی رہنمائی کرنا اپنا فرض ہی نہی سمجھتے بلکہ اکثر تو اس قابل ہی نہی ہوتے کہ ان کی رہنمائی کرسکیں جب بچے کو گھر سے اور اسکول سے اس معاملے میں رہنمائی نہیں ملے گی تو انجام افسوس ناک ہی ہوگا۔اپنے کیرئیر کا انتخاب کسی کی بھی زندگی کا بہت نازک فیصلہ ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر مناسب رہنمائی اور تربیت میسر نہ ہو تو ہو سکتا ہے کہ آپ ایسے کیرئیر کا انتخاب کر بیٹھیں جو آپ کی دلچسپیوں، صلاحیت اور رجحان سے نہ ملتا ہو۔ اس لیے کیرئیر کونسلنگ کسی کی دلچسپی اور رجحان کو جاننے اور اسے اپنے خواب کی تکمیل کے لیے کوشش کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے،

لسبیلہ میں اسی شعبے کے حوالے سے میں گزشتہ دنوں حب کے متحرک نوجوانوں کے پلیٹ فارم "ینگ لیڈرز فورم” کے زیراہتمام لسبیلہ چمیبر آف کامرس اور انڈسٹری کے کانفرنس ہال میں منعقدہ پروگرام میں شرکت کا موقع ملا ،پروگرام کی منفرد بات یہ تھی کہ یہ پروگرام ان نوجوانوں نے اپنے مدد آپ کے تحت منعقد کیا تھا جن میں بلوچستان کے وہ طلبہ جو پاکستان کی مختلف مشہور یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں انہوں نے اپنے تعارفی سیشن کے اندر حب کے طلبہ کی زبردست رہنمائی فراہم کی جس میں بدر حسین ،نجیب آزاد ،نادر بلوچ ،ایڈوکیٹ آصف بلوچ،جواد رند ، غلام سرور سمیت ان کی ایک متحرک ٹیم شامل تھی جنہوں حب میں اپنی نوعیت کا پہلی مرتبہ پروگرام مرتب کیا اور نوجوان طلبہ کی رہنمائی کی.

تقریب کے ابتدائی حصے میں پروگرام کے آرگنائز نجیب آزاد نے اس فورم کے مقاصد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ یہ فورم بنیادی طور پر ان تمام بلوچستان کے نو جوانوں کو رضاکارانہ پلیٹ فارم ہے جو کہ اس وقت پاکستان کے محتلف یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں ،جس کا بنیادی مقصد تعلیم کے حوالے سے ہونے والی ڈویلپمنٹ ،ایڈمیشن ،اسکالرشپ اور دیگر مواقعوں کے بارے میں نئے نوجوانوں کو اگاہ کرنا ہے تاکہ وہ حصول علم کے لیے ان اداروں کا رخ کرسکیں اور ان کی رہنمائی و معاونت کرنا ہے جس سے بلوچستان کے بچوں کو اعلی تعلیمی اداروں تک رسائی ممکن ہوسکے.

تقریب میں شامل لسبیلہ کے ماہر تعلیم جنہوں نے لسبیلہ میں انسانی وسائل کے فروغ پروفیشنل تعلیم کے فروغ میں ہمیشہ اہم اور بنیادی کردا ر ادا کیاجن میں سر ظاہر حسین ،حسین مری ،بشیر احمد جمالی،وقار بلوچ،قیوم بلوچ ،اسنٹنٹ کمیشنر یونس سنجرانی ، پروفیسرریاض بلوچ ،دلیپ کمار و دیگر قابل شخصیات شامل تھی انہوں نے ترقی کے امکانات اور تعلیمی مواقعوں پر بات چیت کے دوران کہاکہ کیرئیر کونسلگ سے طلبہ و طالبات کے بہتر مستقبل کا تعین کرنے میں مدد ملتی ہے۔ والدین بچوں پر اپنی خواہشات ٹھونسنے کے بجائے ان کی خواہش اور ذہنی صلاحیت کے مطابق سبجیکٹ کا انتخاب کریں تو بہتر نتائج کا حصول ممکن ہے۔

انھوں نے اپنی زندگی کے تجربات سے طلباء و طالبات کو اگاہ کیااو ر کہا کہ طلباء کو ان مضامین کا انتخاب کرنا چاہئے جن میں ان کی دلچسپی ہو اور اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کو حاصل کرنے کے لیے اس بچے میں اس معیار کی صلاحیت بھی ہونی چاہئے۔انہوں نے مذید کہا کہآج کے دور میں ہر بچے کے والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ ڈاکٹر یا انجینئر بنے ہر بچے کی صلاحیتیں مختلف ہوتی ہیں لیکن والدین اس پر توجہ نہیں دیتے جس کی وجہ سے ان کے کا خواب پورے نہیں ہو سکتے اس کے لئے ضروری ہے کہ بچوں کی تعلیم میں ان کی ذاتی دلچسپی کو مدنظر رکھناہو گا انھوں نے کہا ہے کہ ڈاکٹر،انجینئر کے علاوہ میڈسن،بزنس،کمپیوٹر،لٹریچر،ٹیچنگ سمیت بشمار دیگر شعبے ہیں جن میں بہترین سکوپ موجود ہے.

ماہرین تعلیم نے مذید کہا کہ کیرئیر کونسلنگ کے ذریعے سے ہم اپنے لائق، ہونہار اور ذہین طلباء و طالبات کو ایک ایسے شاندار مستقبل سے آشنا کر سکتے ہیں جس کے وہ نہ صرف خواہش مند ہیں بلکہ صحیح رہنمائی نہ ملنے کی وجہ سے انہیں زندگی بھر یہ افسوس رہتا ہے کہ انہوں نے اپنے لئے صحیح شعبے کا انتخاب کیوں نہیں کیا مذید یہ کہ ہمارے دیہاتوں، قصبوں اور شہروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کو صرف چند پیشوں سے آگاہ کیا جاتا

ہے حالانکہ حصول رزق کے لئے اختیار کئے جانے والے درجنوں، بیسیوں اور سینکڑوں پیشوں میں سے طلباء و طالبات کو وسیع پیمانے پر انتخاب کرنے اور کامیابی سے ہمکنار ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔ مقررین نے وائی ایل ایف کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے حب میں پہلی کیرئیر کونسنگ سیشن کا انعقاد کیا اور بچوں کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی احساس موضوع کا انتخاب کیا جو معلومات آج ہم کو اس سیمینار میں ہوئی وہ قابل رشک ہیں۔

کیرئرکونسلنگ کے حوالے سے سرزمین لسبیلہ پر اس طرح کی علمی گفتگو میرے لیے یقیناًکچھ نیا تھا ،تعلیمی ترقی اور تعلیم مہم کے مشن کے فروغ کے دوران اس طرح کے سیکھنے و سکھانے والے نوجوان سے ملنا اور ماہر ین تعلیم کا ایک جگہ پر جمع ہونا ہمارے اس مشن کی تکمیل کی طرف ایک قدم ہے جس کا نعرہ کئی سال قبل ہم نے وانگ کے پلیٹ فار م سے لگایا تھا کہ پڑھے گالسبیلہ تو بڑھے گا لسبیلہ،لیکن یہ نعرا ابھی صرف لسبیلہ تک محدود نہیں ابھی بلوچستان بھر کے نوجوان تعلیم ترقی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جس طرح حب میں ان نوجوانوں نے ینگ لیڈز فورم کے ذریعے ان خوبصورت پروگرام کو منعقد کرکے ایک مثال قائم کی.

دوسری طرف ہم ایک بڑے سطح پر بھی دیکھیں تو پاکستان میں سولہ سال سے چوبیس سال تک کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد کل آبادی کے ایک بہت بڑے حصے پر مشتمل ہے اور یہی حصہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کا ہے جنہیں گریجویشن، پوسٹ گریجویشن اور ڈاکٹریٹ کے بعد ملازمتیں درکار ہوتی ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں سکولوں اور کالجوں کی سطح پر کیرئیر کونسلنگ (Career Conslling) کا وہ اہتمام نہیں ہے جس حد تک اسے ہونا چاہیے۔ ہمارے دیہاتوں اور قصبوں میں بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کا یہ مقصد سمجھا جاتا ہے کہ وہ کوئی سرکاری یا پرائیویٹ ملازمت کریں گے، حالانکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہے کہ آپ سرکاری یا پرائیویٹ ملازمت کریں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے تجربہ کار اور دانش مند لوگ موجود ہیں جو طلباء و طالبات کو کیرئیر کونسلنگ کے حوالے سے بہت اچھا گائیڈ کر سکتے ہیں۔ اگر شروع سے ہی طلباء و طالبات کو اپنے مستقبل کے حوالے سے یہ معلوم ہو کہ وہ جتنی محنت اور لگن سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں اس تعلیم کی بدولت انہیں معاشرے میں عزت ملے گی اور ان کی تمام ضروریات زندگی بھی پوری ہو سکیں گی تو وہ ایک بہتر سمت میں چل سکتے ہیں۔

Facebook Comments
(Visited 77 times, 1 visits today)

متعلق خلیل احمد رونجھا

خلیل احمد رونجھا
خلیل احمد رونجھو بیلہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ کل وقتی سماجی کارکن ہیں۔ سماجی معاملات پر ہی لکھنا بھی ان کا مشغلہ ہے۔