مرکزی صفحہ / علمی حال / خضدار میں غیرفعال اسکولوں کے خلاف ڈپٹی کمشنر کی کارروائی، غیر حاضر ٹیچرز معطل

خضدار میں غیرفعال اسکولوں کے خلاف ڈپٹی کمشنر کی کارروائی، غیر حاضر ٹیچرز معطل

خلیل رونجھو

خضدار میں غیرفعال اسکولز اور غیر حاضر اساتذہ کے خلاف پہلی کارورائی ، تحصیل زہری میں10 سے زائد اسکولز بند اور پندرہ سے زائد ٹیچرز غیر حاضر پائے گئے، ڈپٹی کمشنر خضدار سہیل الرحمان بلوچ کی جانب سے فوری کاروائی، ٹیچرز کو معطل کرنے اور بند اسکولز کو فعال کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے احکامات کے بعد خضدار میں بندتعلیمی اداروں اور غیرحاضر اساتذہ کے خلاف یہ پہلی کاروائی ہے. مزید غیر فعال تعلیمی اداروں اور غیر حاضر ٹیچرز کے خلاف بھی کاروائی ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنرخضدار حاجی سہیل الرحمان بلوچ آج اچانک خضدار کی تحصیل زہری کے دورے پر پہنچے، ان کے دورے کا مقصد علاقے میں سکولوں کی صورت حال معلوم کرنا تھا۔ دورے کے دوران وہاں مختلف علاقوں میں ایسے دس سے زائد اسکولز پائے گئے کہ جودرس و تدریس کے لیے مکمل بند، نجی محفل و ذاتی مہمان خانوں اور جانوروں کو چرانے و دیگر استعمال کے لیے مقامی لوگوں کے قبضے میں تھے۔

ڈپٹی کمشنر خضدار نے ان تعلیمی اداروں کی بلڈنگز کو متعلقہ افراد کے قبضہ سے فوری طور پر واگزار کر کے انہیں محکمہ تعلیم کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کر دیے، جب کہ 15 سے زائد اساتذہ غیرحاضر پائے گئے جنہیں ڈپٹی کمشنر خضدار حاجی سہیل الرحمان بلوچ نے فوری طور پر معطل کر کے ان کی تنخواہیں بھی بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔

اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خضدار حاجی سہیل الرحمان بلوچ نے میڈیا نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج میں تحصیل زہری کے دورے پر آیا تو یہاں اسکولز کی عمارتیں نجی محفل خانے بنی ہوئی تھیں، جب کہ اساتذہ غیر حاضر تھے، ان اسکولز کو واگزار کر کے محکمہ ایجوکیشن کے حوالے کیا گیا اور غیر ٹیچرز کو معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ محکمہ ایجوکیشن خضدار کا عملہ اپنے فرائض ادا کرنے سے قاصر نظر آتا ہے، دیہی علاقوں اور تحصیل علاقوں میں جہاں اساتذہ کی غیرحاضری کافی زیادہ دکھائی دے رہی ہے، ایسے اساتذہ کے خلاف واضح احکامات ہیں۔ اگر وہ اپنی ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوں گے تو ان کے خلاف فوری کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ محکمہ ایجوکیشن کا عملہ اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھائے، تعلیمی اداروں کو فعال بنائیں اور غیر حاضر اساتذہ کو حاضری کا پابند بنائیں۔

یاد ر ہے کہ چند روز قبل گھوسٹ اسکولز اور گھوسٹ اساتذہ کے خلاف صوبائی حکومت نے احکامات جاری کرتے ہوئے متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو ان کے خلاف کارروائی کے احکامات جار ی کر دیے تھے، اور یہ خضدار میں غیرفعال اسکولز اور غیرحاضر اساتذہ کے خلاف انتظامیہ کی پہلی کارروائی ہے۔

اس طرح کے بہت سارے تعلیمی ادارے ہیں جو لوگوں کے محفل خانے بنے ہوئے ہیں جب کہ کافی اساتذہ اپنی ڈیوٹی سے غیرحاضر ہیں جن کے خلاف کارروائی ہونا باقی ہے۔ تعلیم دوست طبقات کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ اسی طرح کی کاروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری رکھتے ہوئے تعلیمی اداروں کو فعال بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ غیر فعال اسکولز، گھوسٹ اسکولز، اور غیر حاضر اساتذہ کی نشان دہی سے ہی تعلیمی انحطاط میں کمی لائی جا سکے گی۔

Facebook Comments
(Visited 72 times, 1 visits today)

متعلق خلیل احمد رونجھا

خلیل احمد رونجھا
خلیل احمد رونجھو بیلہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ کل وقتی سماجی کارکن ہیں۔ سماجی معاملات پر ہی لکھنا بھی ان کا مشغلہ ہے۔