مرکزی صفحہ / تصویری حال / ہنہ جھیل کا حسن، ویرانی کی نذر

ہنہ جھیل کا حسن، ویرانی کی نذر

تحریر و تصاویر: فتح شاکر

بارشوں اور حکومتی توجہ کی کمی کے باعث ہنہ جھیل کا حلق خشک ہو چکا. جھیل کو مسکن بنانے والی ہزاروں کی تعداد میں گولڈن مچھلیوں نے سسک سسک کر جان دے دی.

کوئٹہ کے وسط مشرق میں 10 کلومیٹر کی دوری پر واقع زرغون پہاڑی سلسلے کے طلسماتی دامن میں تفریحی مقام ہنہ جھیل اپنی خوب صورتی اور دلکشی کے باعث سیاحوں کی توجہ کے سمیت سائبیریا سے ہجرت کرنے والے لاکھوں آبی پرندوں کی گزر گاہ بھی ہے.

بارشیں نہ ہونے اور حکومتی عدم دلچسپی کی وجہ سے آج ہنہ جھیل خشک ہو چکی ہے .وہاں موجود بڑی تعداد میں مچھلیاں مرنے لگی ہیں۔ دوسری جانب حکومتی سطح پر جھیل میں پانی کی ترسیل اور مرتی ہوئی مچھلیوں کو بچانے کے لیے تاحال کوئی اقدام نہیں اٹھایا جا سکا. بڑی تعداد میں مچھلیوں کی اموات کے باعث علاقے میں تعفن پهیلنے لگا ہے جس کی وجہ سے سیاحتی مقام ہنہ جھیل اپنی خوب صورتی کھو چکا ہے.

عوامی حلقوں اور بچے کھچے سیاحوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بڑی تعداد میں مچھلیوں کی اور جھیل خشک ہونے کے باعث جو نقصان ہوا ہے اس کے ازالے اور مستقبل میں ایسے نقصانات سے بچنے کے لیے موثر اور عملی پالیسی مرتب کی جائے جو نہ صرف سیاحتی مقامات کے تحفظ کا باعث بنے گا بلکہ سیاحوں کی دلچسپی کو سستی تفریحی بھی میسر ہو گی.

یہ جھیل 1894 میں برطانوی نو آبادیاتی دور میں مقامی باشندوں کی مدد سے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے تعمیر کی گئی تھی. جو سردیوں کے موسم میں سائبیریا سے ہجرت کرنے والے لاکھوں آبی پرندوں کی گزر گاہ بھی ہے۔

جھیل اپنی خوبصورتی اور دلکشی کے باعث سیاحوں پاکستان کے دیگر سیاحتی مقامات میں اپنا مقام رکھتی ہے.

لیکن آج موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں آنے کے بعد اور حکومتی عدم توجہی کے نتیجے میں نہ صرف اس کا حسن معدوم ہو چکا ہے بلکہ یہ تفریحی مقام تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

حکومت اور متعلقہ اداروں کو اس جانب فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments
(Visited 155 times, 1 visits today)

متعلق فتح شاکر

فتح شاکر
فتح شاکر نے بہ طور کیمرہ مین صحافت میں کیریئر کا آغاز کیا۔ اب فوٹو گرافی کے ساتھ فیلڈ رپورٹنگ بھی کرتے ہیں۔ صحافت میں یہ دونوں شعبے ان کی دلچسپی کا محور ہیں۔ Email:shakirdawn@gmail.com