مرکزی صفحہ / اسپیشل ایڈیشن / حال حوال کا سال / حال حوال — امید کی کرن

حال حوال — امید کی کرن

گورگین بلوچ

کوئٹہ کی آب و ہوا ہو، جناح روڈ ک تاریخی مقامات، ہنہ اوڑک کی خوب صورتی ہو، چلتن کے بلند پہاڑ یا جبل نور کے پُرآسائش غار ہوں ان دل کش و دل فریب مناظر میں کون بدقسمت بخاری بک شاپ (گوشہ ادب)، میزان چوک یا فٹ پاتھوں پہ پڑی ہوئی پرانی کتابوں کو سمیٹ کر وقت ضائع کر کے کتابوں کی مجلس میں بیٹھ کر کتابوں سے باتیں کرے گا؟!!

قندہاری بازار میں بلوچی ٹوپی، واسکٹ، کپڑے، پرانی چیزوں کے ریٹ پر لڑنے والا نصیب خشک فروٹ والے کے بادام، اخروٹ، شیلانچ لینے والے کون بدبخت قلم کاغذ اٹھا کر پریس کلب کے پیچھے ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھ کر سُکون سے قلم کو روشنائی میں ڈبو کر سنڈیمن کی تاریخ سے لے کر بولان کی خوب صورتی تک کی سیر کرائے گا….

کون بدبخت گوادر، کنڈ ملیر، گڈانی، ڈام بندر کی سیر سے نکل کر خان محراب خان کی انگریز اور حمل جیئند کی پرتگالیوں کی جنگ میں کمر بستہ ہو کر جنگ کے میدان میں اتر کر اپنے نازک ہاتھوں سے قلم چلا کر عکس کشی کر ے گا….

کوئٹہ میں بیوی محترمہ کی فرمائشوں سے نکل کر کون صورت خان مری، حکیم بلوچ، نرگس بلوچ، انور ساجدی، ندیم ہاشمی‌، منظور بلوچ، نعمت اللہ گچکی، کو جناح روڈ سید ہوٹل یا صادق کیفے پہ ڈھونڈنے نکلے یا عطا شاد کی قبر پر جا کر خوب گلوے شکوے کرے….

بولان کی خوب صورتی، ہنگول کی آہوں، ہربوئی کی سردی، زیارت کی چیری، مستونگ قلات کے سیبوں، گوادر کے سمندر سے بے خبر ان حالات میں بلوچی روایات کے اہم حصہ حال حوال جو صدیوں سے پہاڑی گدانوں میں محدود تھا، ایک معصوم ٹیم نے صفحوں کو سفیدی سے سیاہ کرنے والے قلم کے نشتر چلانے والوں کے لیے حال حوال کا آن لائن میدان سجا دیا…

سال بھر حال حوال کی مجلس جاری رہی. اس مجلس میں نئے نئے حوالکاروں کی انٹری ہونے لگی…. کسی سے انڈین فلموں کے قصے، کسی کی سفر کی داستان، گویا مجلس میں بیٹھے ہ مجلس گُڑ کی چائے اور بڑی پگڑی کے ساتھ مونچھوں کو داب دے کر سبزل سامی کے دمبورگ اور مرید بگٹی کی جنک کی آواز سے حال حوال کے دیوان کو تسکین بخشتے رہے. روز نئے نئے قلم کاروں سے واسطہ پڑتا رہا….

نہ جانے حال حوال کے کماش جناب عابد میر کو یہ کہاں سے سوجھی کہ جناب حال حوال کی مجلس برسوں سے گدانوں اور پہاڑی دامنوں تک محدود ہے، اسے چھوٹا لندن میں لانا چاہیے، یہاں بہت سے جوان جو جانتے ہیں، محسوس کرتے ہیں انہیں لکھنا چاہیے، مگر ایسا کوئی ادارہ میسر نہیں، ان کے لیے کچھ کیا جائے….

یہ ہم نوجوانوں کی خوش قسمتی ہے کہ ہمیں لکھنے کے لیے آج ایک ادارہ دستیاب ہے جو ہمارے ٹوٹے پھوٹے لفظوں کو ترتیب دے کر شائع کر رہا ہے….

حوال حوال کو ایک سال کا عرصہ بیت چکا ہے. اس دوران حال حوال نے نئے قلم کاروں کو مزید لکھنے کا موقع دیا.

اللہ جزائے خیر دے جناب عابد میر صاحب کو، اس کی زیرپرستی یہ یہ ادارہ چل رہا ہے بغیر کسی مالی امداد، بغیر کسی منت سماجت، ای میل کا جواب بہت خوب صورتی سے حال حوال کا حصہ رہتا ہے.

بہت خوش ہے بلوچستان اپنے بچوں کو دیکھ کر کہ نشہ سے پاک کردار سے مزین روز نئی نئی چیزیں تحقیق کر کے سامنے لا رہے ہیں. یہ ہمارے نوجوان خوبیوں سے لدے ہوئے ہیں. یہ بہت کچھ کرنا جانتے ہیں، ان کو بس حوصلہ افزائی کی اشد ضرورت ہے. ان کو بہت کچھ کرنا ہے ابھی.

اور بہت خوش قسمت ہیں ہم جوان کہ ہمیں جناب عابدمیر جیسا دوست نما استاد میسر ہے، جو حال حوال کے توسط سے ہماری صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے لا کر یہ دکھا رہا ہے کہ ہمارے بھی نوجوان کسی سے کم نہیں. ہمارے ہاتھوں میں قلم اور کتاب کے سوا کچھ نہیں. ہم حال حوال کو دوام بخشیں گے.

دعا ہے کہ بس یوں ہی یہ حال حوال کی مجلس چلتی رہے، کہ یہی اب نوجوانوں کے لیے امید کی کرن ہے.

Facebook Comments
(Visited 143 times, 1 visits today)

متعلق گورگین بلوچ

گورگین بلوچ
گورگین بلوچ کا تعلق آواران سے ہے۔ بلوچی ادب میں ایم اے کرنے کے بعد اب کوئٹہ کے لا کالج سے قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ gorgainbaloch2@gmail.com