مرکزی صفحہ / بلاگ / بلوچ اور کینسر: اور آؤ مل کر بڑھائیں ایک قدم!

بلوچ اور کینسر: اور آؤ مل کر بڑھائیں ایک قدم!

چراگ سحری

کہتے ہیں کہ دنیا میں جب بھی کسی ملک یا قوم پر بڑے بڑے سانحہ گزرے ہیں تو اس وقت وہ ملک یا قوم کو ہمیشہ ایک ساتھ یا یوں کہیں کہ ایک پیج پر دیکھا گیا ہے، لیکن پتہ نہیں ہم کس مٹی کے بنے ہیں، ہمارے ہاں روز آئے دن بڑے بڑے قومی سانحہ ہو رہے ہیں اور ہم ہیں کہ بس…!

میں بات کر رہا ہوں اپنی قوم کے ان بڑے سانحات کی جو حال ہی میں رونما ہوئے ہیں، میں بات کر رہا ہوں اپنی قوم کے مستقبل کے معماروں کی، جنہیں ہماری قوم صرف ایک ہفتے تک سوشل میڈیا پر یاد کر کے بھول جاتی ہے….

جی ہاں میں بات کر رہا ہوں ریحان رند کی، میں بات کر رہا ہوں نور بی بی کی، میں بات کر رہا ہوں شے مرید، فراز اور ان جیسے کئی گم نام فرزندوں کی جو اس موذی مرض ( کینسر) کے ہاتھوں پوری قوم کے سامنے سسک سسک کر دم توڑ گئے….. آہ! اور ہم اُف تک نہ کر پائے…

یہ کینسر جو کہ کسی بھی تعریف کا محتاج نہیں، یہ بہت ہی عام اور مہلک بیماری ہے جو ساری دنیا میں پائی جاتی ہے، ترقی یافتہ ممالک یا پھر ترقی پذیر ممالک یکساں اس کی لپیٹ میں ہیں. فرق صرف یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں اس کی روک تھام اور اس کے علاج کے آئے دن نت نئے طریقے دریافت کرنے پر لگے ہوئے ہیں اور ترقی پذیر ممالک میں بس کینسر زدہ مریض کے رشتہ دار اس کے بچے کھچے دن گنتے رہتے رہے ہیں….

پاکستان کا شمار بھی ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے تو یہاں اس مرض میں مبتلا شخص کا یہی حال ہوگا جو کہ مندرجہ بالا تحریر میں بیان کیا گیا ہے. پاکستان میں ویسے تو کینسر ہسپتال، این جی اوز بیسڈ ٹرسٹ بننے ہوئے ہیں جو اس مرض کے خلاف جنگ میں مصروفِ عمل ہیں جن میں شوکت خانم میموریل ہسپتال نمایاں ہے، لیکن…..!!

لیکن ٹھہریے جناب! عمران خان کا نام سنا ہوگا آپ لوگوں نے اور دیکھا بھی ہوگا، آج کل پاکستان کے بڑے سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں. جی، میں اسی عمران کی بات کر رہا ہوں، جب اس کی والدہ اس موذی مرض میں مبتلا ہو کر اس دنیا سے رخصت ہوئیں تو بس وہ دن اور آج شوکت خانم میموریل ہسپتال ہمارے سامنے ہے. اب میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا.

میں بس یہ کہنا چاہتا ہوں اپنی پوری قوم کو، اپنے وزیراعلیٰ بلکہ ہر باشعور فرد، ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد، اور بالخصوص اس قوم کے معزز و معتبر انسانیت دوست لیڈران سے، (میں نے لیڈر کا لفظ اس لیے استعمال کیا کیوں کہ "نیلسن منڈیلا” کا ایک قول یاد آیا کہ ” سیاست دان اپنے آنے والے الیکشن کے بارے میں سوچتے ہیں جب کہ لیڈر اپنی آنے والی نسلوں کے بارے میں)، تو کیوں کہ ہمارے لیے آپ حضرات کسی سلیبریٹی سے کم نہیں ہیں اور اس ملک میں یا پوری دنیا میں لوگ آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، آپ اس قوم کے لیے ایک پلیٹ فارم جو کہ (پہلے سے ریحان رند فاؤنڈیشن کے نام سے اس مرض کے خلاف جہاد میں مصروفِ عمل ہے) پر متحد ہو کر اس مرض کے خلاف ہر فورم، ہر گلی نُکڑ پر کیمپین چلائیں یا پھر ایک آگاہی واک یا سیمینار ترتیب دیں جس میں حکومتِ پاکستان سے بلوچستان میں ایک کینسر ہسپتال بنانے کی مانگ کی جائے.

کیا ہم اتنا بھی نہیں کر سکتے؟ کیا اسی طرح ہم اپنی قوم کے ان چراغوں کو بجھتا دیکھیں گے، یا پھر انتظار کریں گے کہ خدانخواستہ جب تک کوئی اپنا اس مرض میں مبتلا ہو کر اپنے ہاتھوں میں دم نہ توڑ دے!!!

خدارا، کینسر کے خلاف جنگ میں متحد ہوجاؤ، اور اپنی آنے والے نسلوں پر یہ احسان کر دو تاکہ ہم پھر کسی ریحان رند جیسے نایاب ہیرے سے محروم نہ ہو جائیں.

Facebook Comments
(Visited 96 times, 1 visits today)

متعلق چراگ سحری

چراگ سحری کا تعلق لیاری سے ہے۔ وفاقی اردو یونیورسٹی سے انگریزی ادب کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ قلمی نام سے بلوچی، اردو میں شاعری اور مضامین لکھتے ہیں۔ Email: bunnybaloch7@gmail.com