مرکزی صفحہ / اسپیشل ایڈیشن / حال حوال کا سال / حال حوال کے گلستاں کے پھول

حال حوال کے گلستاں کے پھول

عابد میر

تو "اُردو ہمارا باپ کا زبان نہیں” اس خیال کے ساتھ لکھی جانے والی تحریروں کو یہ اعزازی نما ایڈیٹر ایک برس سے بھگتتا رہا ہے. تفنن برطرف، اچھی بات یہ ہوئی کہ نئے لکھنے والوں نے اس پلیٹ فارم کو ہاتھوں ہاتھ لیا. کچھ ناموں کا تذکرہ بہ طور تشکر لازم ہے اور کچھ کا بہ طور ایڈیٹری تاثرات کے. تو آج کی نشست میں ہم اُن ساتھیوں کا مختصر تذکرہ کریں گے جنہوں نے اپنی تحریر کے بیج سے وہ پھول کھلائے کہ جس سے حال حوال کا چمن آباد ہوا.

اسلام آباد میں زیرتعلیم بلوچ طلبا کے لیے حال حوال گویا وطن کے نامہ بر جیسی ثابت ہوئی. شاہ جہاں بلوچ، احسان میر، انور بلوچ اور ان کے دیگر ساتھیوں نے حال حوال کے کارواں‌کو ابتدائی ایام میں اپنی تحریروں کی خوراک پہنچائی. شاہ جہان کو طنز میں ملکہ حاصل ہے، احسان سنجیدگی کا بھاری پن لاتا ہے، انور بلوچ کا سائبان سادگی ہے.

کوئٹہ سے رشید بلوچ اور جعفر خان ترین بھی ہاتھ تھما کر آگے بڑھ گئے. شبیر رخشانی کو اپنا پلیٹ فارم ہاتھ آیا تو اندر کا صحافی جاگ پڑا. ایک سے ایک خوب صورت فیچر حال حوال کی زینت بنا. حالات نے مگر اس نوجوان کی صحافیانہ صلاحیت کو مزید ابھرنے نہ دیا. یہ کمی اب عرصے سے مکران کے نوجوان ظریف بلوچ پوری کر رہے ہیں.

کراچی سے محمد خان داؤد نے ہر روز محفل سجانے کا بیڑا اٹھا لیا. ذوالفقار علی زلفی نے اپنے فیس بک فلمی اسٹیٹس کو تبصروں کی شکل دینا شروع کر دی. بلوچستان سے باہر ہم فکر دوستوں میں شاداب مرتضیٰ، مشتاق علی شان، کامریڈ فاروق بلوچ مسلسل قلمی کمک پہنچاتے رہے. ہمایوں احتشام اور ضیغم اسماعیل بھی کبھی کبھار اپنا حصہ ڈال جاتے.

نوجوانوں میں بلاگ لکھنے کا رحجان بڑھا. مختصر الفاظ میں اپنی بات بامعنی انداز میں پہنچانا. خصوصآ وہ نوجوان قابلِ ذکر ہیں جنہوں نے اس کا آغاز ہی حال حوال سے کیا. ان میں ایک متاثر کن آواز منظور مینگل کی ہے. لاہور میں زیرتعلیم جعفرآباد کا یہ نوجوان فکری بالیدگی کی سیڑھیاں جس تیزی سے عبور کر رہا ہے، خدا اسے اس میں استقامت اور بردباری عطا کرے. اس کی تحریریں مستقبل میں اس کے صاحبِ اسلوب فکشن نگار ہونے کی دلالت کرتی ہیں.

نرگس انیس بلوچ کا پہلا بلاگ اس لیے بھی وسیع پیمانے پر پڑھا گیا کہ انہو‌ں نے پہلا بلاگ صرف نرگس بلوچ کے نام سے لکھا. حفصہ حسنی، حمیدہ نور، رابی بدر، ڈاکٹر تہمینہ عباس، جلیلہ حیدر اور عابدہ رحمان نے ہمارے نسائی حصے کی زبردست ترجمانی کی.

تربت سے اسد بلوچ، گوادر سے سلیمان ہاشم اور عبدالحلیم، نوشکی سے برکت زیب، ڈیرہ بگٹی سے شوکت علی بگٹی، نصیرآباد سے قادر نصیب چھتروی، مچ سے عمران سمالانی، تفتان سے یحییٰ ساحل ریکی، پنجگور سے برکت مری، کوئٹہ سے فتح شاکر نے خوب ساتھ نبھایا. ان کی اسپیشل اسٹوریز تحقیقی صحافت کے خانے کو پُر کرنے میں معاون ثابت ہوئیں.

علاوہ ازیں پنجگور کے عطا مہر نے تعلیم سے متعلق اپنے مضامین سے علمی حال کو مزین کیے رکھا. بیلہ کے خلیل رونجھو بھی اس میں اب اپنا حصہ ڈال رہے ہیں. رونجھو سے یاد آیا قیصر رونجھو، جو "عالمی ادیب” بننے کے بعد اب گھر کی مرغی کو کچھ دال برابر بھی نہیں جانتا. بیلہ سے کراچی کا طالب علم وقاص عالم انگاریہ بھی تھا، سنا ہے وہ بھی اب ملکی سطح کا بلاگر بن گیا ہے. ہم بھی کچھ گلہ نہیں‌ کرتے کہ گھوم پھر لیں، صبح کے بھولے ہیں، شام کو گھر ہی لوٹ آنا ہے.

پنجگور ہی کے الیاس رئیس نے بھی حال حوال سے اپنا سفر شروع کیا اور اب تک جاری رکھے ہوئے ہیں. جب کہ پنجگور کے معاویہ مومن کہنہ مشق لکھاری ہیں. البتہ کچھ عرصہ سے گوشہ نشین تھے، حال حوال نے ان کا یہ روزہ تڑوایا، اور اب ان کا قلم چل پڑا ہے.

جعفرآباد سے معروف بلاگر ببرک کارمل حال حوال کا مسلسل ساتھ نبھاتے آ رہے ہیں. وہیں سے اسرار شاکر اب بھی کبھی کبھار جھلک دکھا جاتے ہیں. جب کہ غلام رسول آزاد اور نور جتک ایک جھلک دکھا کر غائب ہی ہو گئے. خاران کے فیضی کا بھی کچھ ایسا ہی حال رہا.

گوادر سے بالاچ قادر نامی نوجوان نے حال ہی میں انٹری دی ہے، اور بڑی دبنگ انٹری دی ہے. اپنی عمر سے کہیں دوگنا گہری تحریریں لکھتے اور خوب داد وصول کرتے ہیں. جب کہ گوادر کے برکت اللہ اور رحمت اللہ بلوچ پہلے سے ہی اپنے قلم کی جولانیاں دکھا رہے ہیں.

نوشکی کے سمیر بلوچ کا بھی قلم اب چل پڑا ہے. نوشکی کے خطے کے معروف ادیب غمخوار حیات نے حال حوال کا براہوی سیکشن سنبھال کر گویا حال حوال کو ایک نئی آنکھ عطا کر دی.

ڈاکٹر برکت شاہ کاکڑ، جعفرخان ترین، حفیظ اللہ شیرانی، ارباب تیمور کاسی، نقیب زیب کاکڑ گویا ہم پر نسلی چھاپ کا جواب مہیا کرتے رہے.

عثمان قاضی ایسے بزرگ ساتھی ہیں کہ جن کا صرف ساتھ ہی برکت کی علامت ہوتا ہے. یہ بزرگ مگر دامے، درمے، سخنے، "قلمے” مدد کو ہمہ وقت موجود رہتے ہیں. جناب ثنا بلوچ کو بھی حال حوال کا کچھ ایسا چسکا لگا کہ ازراہِ مہربانی اپنا ہر انگریزی مضمون ترجمے کے لیے بھجوا دیا کرتے ہیں. ہم اپنی محدود صلاحیت و افرادی قوت کے ساتھ یہ فریضہ انجام دینے کی ہر ممکن سعی کرتے ہیں.

اتنے اچھے ناموں کی تحریروں کو پڑھنا اور ایڈٹ کرنا، یہ گویا ایک برس کی اعزازی ایڈیٹری کا محنتانہ ہے. فقیر اسی رزق پہ خوش بھی ہے، مطمئن بھی.

گو کہ یہ تنقید بھی رہی کہ حال حوال نے ہر دوسرے نوجوان کو لکھاری بنا دیا ہے. اور اس معروف فقرے کی آڑ میں استہزا اڑایا جاتا رہا کہ جنہیں پڑھنا چاہیے، وہ لوگ بھی لکھ رہے ہیں. لیکن مجھے ہمیشہ ایسا لگتا ہے کہ کسی بھی دوسرے کام کی بجائے لکھنے کا انتخاب کرنا ایک مشکل اور منفرد فیصلہ ہے. یہ ہر ایرے غیرے کے بس میں نہیں. اس لیے جو بھی اپنی بات سمجھانے اور اپنا مؤقف دوسروں تک پہنچانے کے لیے لکھنے کا فیصلہ کرتا ہے، اس کی قدر کرنی چاہیے. حال حوال بس اتنی سی قدردانی کا فریضہ سرانجام دے پارہا ہے.

البتہ باوجود خواہش کے ہم اپنے لکھاریوں کو اب تک کوئی معاوضہ پیش کرنے سے قاصر رہے ہیں. اس ضمن میں ایک تجویز ذہن میں ہے کہ حال حوال کی منتخب تحریروں کا ایک سال نامہ شائع کیا جائے. یعنی سال بھر کی منتخب تحریروں پر مبنی ایک کتاب. اور میرا خیال ہے گوادر سے متعلق منتخب تحریروں پر مبنی پہلی کتاب ہم رواں برس کے آخر تک لے آئیں گے.

مگر سچ پوچھیے تو اس باغ کی درست تراش خراش لکھنے پڑھنے والوں کی مسلسل تنقید، تجاویز و آرا کے بنا ممکن ہی نہیں. سو، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ باغ یوں ہی کِھلا رہے، اس کے پھول آپ تک اپنی خوشبو پہنچاتے رہیں تو اس پہ اپنی رائے دیتے رہیں، ہماری رہنمائی کرتے رہیں، ہمارا ہاتھ تھامے رہیں.

Facebook Comments
(Visited 142 times, 1 visits today)

متعلق عابد میر

عابد میر
عابد میر کہانیاں اور کالم لکھتے ہیں۔ ادب اورصحافت ان کا میدانِ عمل ہیں۔گورنمنٹ کالج کوئٹہ میں اردو ادب پڑھاتے ہیں، اور "حال حوال" سے بہ طور اعزازی ایڈیٹر وابستہ ہیں۔ ای میل: khanabadosh81@gmail.com