مرکزی صفحہ / اسپیشل ایڈیشن / حال حوال کا سال / حال حوال: ایڈیٹر کی نظر سے

حال حوال: ایڈیٹر کی نظر سے

عابد میر

کہنے کو سال گزر گیا، چار سو کے قریب ہونے کو ایام آئے، مڑ کر دیکھئے تو ایک گھڑی لگتی ہے. ابھی کل ہی تو چار دوست بیٹھے طے کر رہے تھے کہ بلوچستان میں آن لائن اردو میڈیا کا خالی اسپیس کیسے بھرا جائے؟. اپریل 2016 کے آخری ایام تھے. طے پایا کہ حال حوال بہت ہو گیا، بس بسم اللہ ہونی چاہیے. یوں 3 مئی عالمی یومِ صحافت نکتہ آغاز قرار پایا.

پہلا فطری سوال یہی بنتا تھا کہ اسے بلوچستان تک محدود کرنے کی ضرورت کیوں؟. رسول حمزہ توف نے پوری کتاب داغستان نامی چھوٹے سے گم نام جزیرے پہ لکھنے کے جواز میں کہا تھا کہ داغستان وہ کھڑکی ہے جہاں سے میں پوری دنیا کا نظارہ کرتا ہوں. سو، اس کا بہتر جواز تو یہی تھا کہ ہم دنیا کو بلوچستان کی کھڑکی سے ہی دیکھتے ہیں. پھر پاکستان میں آن لائن میڈیا کا نیٹ ورک اس سے قبل وجود پا چکا تھا. بلوچستان کو مرکزی میڈیا میں نظرانداز کرنے والا شکوہ بھی اب سٹیریو ٹائپ ہو چکا. ایسے میں محض شکوہ شکایت کی بجائے خود کوئی عملی کوشش کیوں نہ کی جائے….. حال حوال چار دوستوں کی اسی کوشش کا عملی اظہار تھا.

یہ چار یار کون تھے؟. آواران سے نکل کر کراچی سے صحافت کی ڈگری لے کر ایک عرصے سے بے کاری بھگتنے والا نوجوان شبیر رخشانی. جو ایک عرصے سے ایسے کسی پلیٹ فارم کی چاہ میں تھا. نیوز ایڈیٹر کی ذمہ داری کے ساتھ آگے آیا. بیک وقت کئی ایک ذمہ داریوں میں اپنا سر دینے والا نوجوان ہیبتان عمر، ویب سائٹ کے مالی و تکنیکی امور میں معاونت کے ساتھ منیجنگ ایڈیٹر قرار پایا. کتاب چھوڑ کر کمپیوٹر سے مکمل یاری نبھانے والے خالد نے تکنیکی امور کی مکمل ذمہ داری قبول کی. اس خاکسار کو ایڈیٹر کی اعزازی مسند پہ بٹھایا گیا.

خیال یہ تھا کہ یہ آن لائن معاملہ نوجوانوں کی دلچسپی کا موضوع ہے، اس غریب کا کام محض مشورے وغیرہ کی حد تک ہو گا. جیسے پارٹیوں میں "سینئر رہنما” یا گھر میں چارپائی توڑنے والے کسی بے کار بزرگ کا مقام. مگر ہوا یوں کہ شبیر رخشانی جلد ہی اسلام آباد کو پیارا ہوا. چند ماہ کی نوکری کے بعد اب پھر کراچی میں نوکری نامی حسینہ کی تلاش نے اسے یاروں کے قابل نہیں چھوڑا. ہیبتان عمر بیک وقت کئی "نوکریاں” نبھانے کے چکر میں بھلا ہی بیٹھا کہ حال حوال نامی کوئی ذمہ داری بھی لی تھی. اب جا کر بلوچی حصہ شروع ہوا تو اس کہ ذمہ داری کے ساتھ اس نے اپنی موجودگی اور ساتھ کا احساس دلایا. خالد نے ویب سائٹ بنا کر دی اور گویا اپنے حصے کا کام پورا کر لیا. کوئی چھ ماہ بعد نجیب اللہ نامی باصلاحیت اور توانائی بھرا نوجوان ہمیں ہاتھ لگا. اچھا ہاتھ بٹایا. مگر جلد ہی وہ بھی سرکاری نوکری کو پیارا ہوا. رہ گیا اعزازی ایڈیٹر، جو اب کسی سے یہ بھی نہیں پوچھ سکتا کہ مجھے دھکا کس نے دیا؟!

روزانہ چار چھ خبریں اور اتنے ہی مضامین کو پڑھنا اور انہیں ایڈیٹ کرنا…….. خیال رہے کہ بلوچستان میں خصوصآ اردو میں لکھنے والے ہر صاحبِ قلم کا اس نکتے پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ ان کو اردو کی مذکر مؤنث معاف ہے. ہر نوع کی دلیل کے جواب میں ان کا یک سطری متفقہ جواب ہے: "اردو ہمارا باپ کا زبان توڑی ہے!”. یعنی جو آپ کے باپ کی زبان نہیں، اس کے ساتھ آپ لونڈیوں کا سا حشر کر سکتے ہیں.

تفنن برطرف، اس ایک برس میں حال حوال نے ہر ممکن طور پر وطن کی بکھرے گیسو سنوارنے کی سعی کی، اور یہ ان ساتھیوں کے بغیر ممکن ہی نہ تھا جنہوں نے اپنی قلمی کمک بنا کسی تعطل کے مہیا کیے رکھی. بہ طور ایڈیٹر یہ پہلو اطمینان بخش لگتا ہے کہ یہ ایک برس کا سفر ہم نے بنا کسی تنازعے کے مکمل کیا. بالخصوص ایک ایسے وقت میں جب آپ کی تمام تر مصلحت کوشی کے باوجود بن بلائے دشمن ہر سو دندناتے پھر رہے ہوں.

حال حوال کی کچھ خصوصی کمپین کا ذکر تو اپنے اطمینان کے لیے بھی ضروری ہے. ان میں سب سے اہم تھی لاپتہ افراد سے متعلق خصوصی اشاعت، جسے کھاد میسر آئی کامریڈ واحد بلوچ کی گمشدگی سے. ایک دوست کے بقول، ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں کسی لاپتہ ہونے والے شخص کے لیے ایسی منظم قلمی کمپین کی کوئی مثال نہیں ملتی. یہ تین ماہ جب تک کہ کامریڈ واحد لاپتہ رہے، حال حوال پہ کوئی دن ایسا نہ جاتا تھا کہ جبری گم شدگیوں پہ بات نہ ہوتی ہو. کامریڈ واحد کو موضوع بنا کر جبری گم شدگیوں کے موضوع پر کل ملا کر ڈیڑھ سو سے زائد تحریریں حال حوال کا حصہ بنیں.

گوادر بھی حال حوال کے لکھنے پڑھنے والوں کی خصوصی توجہ کا مرکز رہا. سی پیک سے لے کر، گوادر پورٹ، گوادر ادبی میلہ اور گوادر میں پانی کی قلت پر خصوصی اشاعتوں میں درجنوں مضامین شاملِ اشاعت ہوئے. اسی طرح حب میں توہینِ مذہب کا واقعہ ہو، پاکستان میں مشال خان قتل کیس یا سوشل میڈیا بلاگرز کی گم شدگی، اسلام آباد میں سندھی بلوچ طلبا تصادم کا قصہ ہو یا میگا کرپشن کیس، حال حوال کے لکھاریوں کی مقدور بھر آواز اس میں شامل رہی.

بلوچستان کی معاصر تاریخ کی نابغہ روزگار ہستی میر عبداللہ جان جمالدینی کی وفات پر خصوصی اشاعت، حال حوال کے ماتھے کا جھومر رہے گی.

مختصر یہ کہ اب جب اس ایک سالہ سفر پہ نظر دوڑاتا ہوں تو لگتا ہے جس نے بھی مجھے اس "کھائی” میں دھکا دیا، احسان ہی کیا. کہ یہ میرے لیے گڑھے کی بجائے ایسا گلستان ثابت ہوا جس میں رنگ رنگ کے پھول کی خوشبو کشید کی جا سکتی ہے. "میں کمبل کو چھوڑتا ہوں، کمبل مجھے نہیں‌چھوڑتا” والی صورت حال اب کسی ہیرونچی کی سی کیفیت اختیار کر چکی ہے.

حال حوال اب ایک "لت” کی کیفیت اختیار کر چکی ہے، جس سے جان چھڑانا ممکن نہیں.

اچھا، یہ نشست تمام ہوئی. حال حوال کے اس باغ میں اپنی اپنی خوشبو بکھیرتے پھولوں کا ذکر آئندہ نشست میں کریں گے.

Facebook Comments
(Visited 179 times, 1 visits today)

متعلق عابد میر

عابد میر
عابد میر کہانیاں اور کالم لکھتے ہیں۔ ادب اورصحافت ان کا میدانِ عمل ہیں۔گورنمنٹ کالج کوئٹہ میں اردو ادب پڑھاتے ہیں، اور "حال حوال" سے بہ طور اعزازی ایڈیٹر وابستہ ہیں۔ ای میل: khanabadosh81@gmail.com