حال حوال — ثنا بلوچ

ثنا بلوچ

کوئی دو ہفتہ قبل سنگت عابدمیر سے وعدہ تو کیا کہ حال حوال کی سالگرہ کی نسبت سے ویب سائٹ کے لیے ایک خصوصی تحریر بھیجوں گا. پتہ نہیں کیوں یہ تحریر مجھے میری زندگی کی مشکل ترین تحریروں میں سے ایک لگ رہی ہے. گو کہ اس میں نہ تو مجھے بھاری بھرکم کتابوں کے مطالعے کی ضرورت ہے، نہ چھپے ہوئے استحصالی اعداد و شمار ڈھونڈنے کی…. یہ تو سیدھی سادھی سی تحریر ہے. حال حوال کا حال بیان کرنا…. لیکن ایسا نہیں.

جب میں کمپیوٹر پر حال حوال کی ویب سائٹ پہ جاتا ہوں تو بائیں جانب نوجوان صحافی شہید ارشاد مستوئی کی تصویر دیکھ کر سادہ سی تحریر کا تصور تکلیف دہ احساس اور کرب کا سبب بن جاتا ہے. ارشاد کا خوب صورت چہرہ اور اب تک چمکتی ہوئی آنکھیں سوال کرتی ہیں کہ بلوچستان میں انصاف اس قدر ناپید ہے کہ اس جیسے خوب صورت اور پُردماغ 40 سے زیادہ صحافیوں کا ایک قاتل بھی پس زندان نہیں. کسی ایک صحافی کے خاندان کو انصاف نہیں ملا… اور ارشاد کی آنکھیں پریشان سی بھی ہیں کہ نہ جانے اور کتنے پُرمغز اور پُرجوش صحافی اور سیاسی و انسانی حقوق کے کارکن اس راہِ حق کی بھینٹ چڑھیں گے. ارشاد کی پُرنور آنکھوں کے یہی سوالات ہیں جو مجھے بے تاب اور بے چین کر دیتے ہیں، پریشان کر دیتے ہیں.

حال حوال
صرف ایک آن لائن میگزین نہیں بلکہ "آن لائن” تصور و نظریہ ہے. ایک آن لائن شمع ہے جو ارشاد مستوئی اور دیگر راہِ حق کے شہید صحافیوں کی یاد کو ہر لمحہ اور ہر روز تازہ رکھے ہوئے ہے.

بلوچستان میں سچ سب سے بڑا جرم ہے اور سچ بولنے والے ہر سایہ دار اور "پھل دار” درخت یعنی نظریہ کو ختم کرنے کے لیے گزشتہ دس سالوں میں ریاستی اداروں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی.

جان محمد دشتی جیسے معتبر لکھاری و صحافی سے لے کر بلوچستان کے ہر کونے کے بلوچ صحافی کو بے دردی سے اس لیے نشانہ بنایا جاتا ہے کہ "سچ” دب کر بلکہ زیر زمین مدفون ہو کر رہ جائے.

ہمارے قدرتی وسائل کے استحصال کے لیے بڑی بڑی مشینریاں ہزاروں میٹر زیر زمین دبے وسائل کو نکالنے کے لیے تو استعمال ہوئی ہیں اور ان وسائل سے منصفانہ استفادہ کی بات کرنے والے بلوچ کو حکومت 10 روپے کی بندوق کی گولی کا سہارا لے کر منوں مٹی تلے مدفون کر دینا چاہتی ہے.

میں ہر صبح جب اٹھتا ہوں تو خدا جانتا ہے میری پہلی دعا ہوتی ہے کہ پروردگار مجھے وطن سے کوئی بری خبر نہ ملے کیوں کہ اس میں شک نہیں کہ اچھی خبر انصاف اور قانون کی بالا دستی جیسی خبریں بلوچستان سے ملنی اب آنے والے کئی عشروں تک ممکنات میں نہیں.

میں روزانہ حال حوال اس امید سے پڑھتا ہوں کہ بلوچستان کے حال و حوال سے محروم نہ رہوں. یہ مجھے وہ احوال دیتا ہے جو مجھے وطن کی مٹی اور محبت کا احساس دلاتے ہیں، یہ مجھے یاد دلاتا ہے کہ بلوچستان کی مردم خیزی اور زرخیزی میں کمی آئی ہے لیکن یہ بنجر نہیں ہے. موافق حالات، قانون و انصاف، مساوات اور علم کے یکساں مواقع اگر پیدا کیے جائیں تو بلوچستان کے صحافی، سیاسی کارکن اور ہمارے نوجوان بلوچوں کا خوشبو بھرا اور محبت سے لبریز حال حوال بہت ہی خوب صورت، جاندار، مدلل اور منطقی طور پر دنیا میں پیش کر سکتے ہیں.

میں حال حوال کی سالگرہ پر صرف یہی دعا کر سکتا ہوں کہ پروردگار! بلوچستان میں بے انصافی اور ظلم ہماری آبادی اور رقبے سے کئی گنا زیادہ ہوگیا ہے. اب اپنے ظلم اور جبر کے فرشتوں کے ہاتھ روک دو تاکہ ارشاد مستوئی اور بلوچستان کے شہدا کے بچے آزادی، انصاف اور مساوات کے معاشرے میں سکھ کا سانس لے سکیں.

Facebook Comments
(Visited 682 times, 1 visits today)

متعلق ثنا بلوچ

ثنا بلوچ
ثنا اللہ بلوچ کا تعلق بلوچستان نیشنل پارٹی ہے۔ وہ بلوچستان سے سینیٹر بھی رہ چکے ہیں۔ بلوچستان کے سیاسی سماجی معاملات پہ تسلسل کے ساتھ لکھتے رہتے ہیں۔