مرکزی صفحہ / اسپیشل ایڈیشن / حال حوال کا سال / بلوچستان کی پسماندگی اور حال حوال کا کردار

بلوچستان کی پسماندگی اور حال حوال کا کردار

یحییٰ ریکی

ذمہ داری ، اپنائیت، درد، احساس اور جذبات کا نام لیا جائے تو یہ نعمتیں ہرانسان کوقدرت کی طرف سے عطا کی گئی ہیں۔ دیکھنے میں تو چند الفاظ ہیں مگر اپنے اندر بہت بڑا طوفان اور سمندر جتنا کہا نی رکھتے ہیں. غرض یہ کہ ان الفاظ میں انسان کے لیے بہت بڑاسبق چھپا ہوتا ہے۔ کچھ لوگ بہت جلد ان چیزوں کو جان لیتے ہیں، مگر کچھ تو صدیاں گزرنے کے بعد بھی سمجھ نہیں پاتے اور اپنے لوگوں کا درد ان کے احساسات کوسمجھ نہیں پاتے، کہ لوگ کیا چاہتے ہیں اور ہمیں اس معاشرے، اس شہراور اس سرزمین کا باسی ہونے کے ناطے کیا کرنا ہے اورہمارا کیا کردارہونا چاہیے. ہم اپنے لوگوں کے لیے کیا کرسکتے اور ان کی مدد کس طرح کرسکتے ہیں۔

جب تک احساس اور درد محسوس نہیں ہوگا تب تک کوئی کچھ نہیں کرسکتا، ان سب کا تعلق انسان کے اندر رہنے والی روح سے ہے جس کوضمیرکہتے ہیں۔ جب تک یہ ضمیرنامی انمول چیزآواز نہیں دے اور ہم اس کی نہیں سنیں تب تک ہم بھی اپنی ذات تک ہی محدود ہوجائیں گے۔ اپنے لیے توسب جیتے ہیں. اپنا درد، خوشی،غم غرض زندگی کا ہرلمحہ اچھے انداز میں محسوس کرسکتا ہے مگر بات یہ ہے کہ ہمارے آس پاس بسنے والے لوگوں کے بارے میں کون سوچے گا، کون ان کی سنے گا، کون ان کے لیے بولے گا، کون ان کی پکا ر کو آگے لے جائے گا تاکہ ان کا درد تھوڑا کم ہو، ان کے دکھوں کامداواہوسکے۔

انسان ہونے کے ناطے یہ ہمارا فرض ہے کہ دوسروں کے بارے میں بھی تھوڑا سوچا کریں۔ روئے زمین پرکوئی بھی چیز خود کے لیے اور بے وجہ نہیں بنی. ہرچیز کی تخلیق میں ایک بڑی وجہ چھپی ہوتی ہے جس کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کواشرف المخلوقات بنا کربھیجا تاکہ وہ اس کی قدرت کے مختلف رنگوں کو دیکھ کر ان سے سبق سیکھے. وقت اور حالات بھی انسان کو بہت کچھ سکھاتے ہیں، ترقی کے منازل وہ طے کرسکتا ہے جو ان چیزوں سے سیکھ لے۔

اصل کہانی کی طرف آتا ہوں دیکھا جائے تو بلوچستان کی پسماندگی کی سب سے بڑی وجہ حکمرانوں کی عدم توجہی ہے جنہوں نے کبھی اس صوبے کے بارے میں نہیں سوچا اور عوام کی فلاح وبہبود کے لیے خاطر اقدامات نہیں کیے جس کے باعث لوگ مزید پسماندگی اور محرومی کا شکار ہوگئے۔ عوام کی آواز کبھی بہتر طریقے سے ان اعلیٰ حکام کے کانوں تک نہیں پہنچ پائی کیونکہ یہاں کے عوامی نمائندے محض اپنی ذات اور عزیزواقارب تک محدود رہے. جوبھی پارٹی برسر اقتدارآئی فقط اپنے ہی حامیوں کوفائدہ پہنچایا اور باقی لوگوں کے بارے میں سوچنا تک گوارہ نہیں کیا. جب تک ہم خود ایک دوسرے کی آواز نہیں بنیں گے تب تک تبدیلی نہیں آئے گی۔ اس تبدیلی کی فضا میں دیکھ رہا ہوں بلوچستان کے عوام میں شعورآگیا ہے. آن لائن میڈیا کافی تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور پسماندہ عوام کی آواز بھی بہتر انداز میں حکامِ بالا اوردنیا کے سامنے آ رہی ہے. یہ بہتر اقدام ہے۔

حال حوال بھی اس سلسلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کررہا ہے اور بلوچستان کے دوردراز علاقوں میں بسنے والے لوگوں کے مسائل کواجاگرکررہا ہے. اب ہمیں کسی کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا کہ وہ ہم سے چند پیسے لے کر ہماری خبرفیکس کرے گا. آن لائن میڈیا نے یہ کام بہت آسان بنا دیا ہے. صرف اس کے لیے ہمیں لکھنے کا ہنر سیکھنے کی ضرورت ہے اور اپنے مسائل کو بہترانداز میں لکھنا چاہیے تاکہ وہ پڑھنے والے کے دل کوچھو جائے۔ عوامی مسائل کواجاگرکرنے میں حال حوال ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے کہ وہ ہروقت تحاریرکوبہتر طریقے سے جانچ پڑتال کرکے شائع کرتی ہے. اس سے لوگوں میں لکھنے اورپڑھنے کا شعور بیدار ہوگا جو کہ بہت عظیم فریضہ ہے۔ اس ذمہ داری کونبھانے کے لیے حال حوال بہتر ٹیم ورک کررہا ہے جوکہ قابلِ ستائش ہے. اس کوشش کوبلوچستان کی تاریخ میں سنہرے الفاظ کے ساتھ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ نوجوانوں کولکھنے پڑھنے کا موقع مل رہا ہے ، صوبہ اور ملک سے باہربیٹھے لوگوں کوبلوچستان کے حالاتِ حاضرہ سے متعلق آگاہی حاصل ہورہی ہوتی ہے جوکہ انتہائی خوش آئند اقدام ہے. ایک سال کا یہ طویل سفرطے کرنے پر حال حوال کی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

Facebook Comments
(Visited 156 times, 1 visits today)

متعلق یحییٰ ساحل ریکی

یحییٰ ساحل ریکی
یحییٰ ریکی نوجوان طالب علم ہیں۔ لکھنا ان کا مشغلہ بھی ہے اور مقصد بھی۔ سماجی، سیاسی موضوعات پہ سوق سے لکھتے ہیں۔ Email:yahya.reki1@gmail.com