حال حوال — فیصل ریحان

فیصل ریحان

کوئٹہ سے حال حوال کی آن لائن اشاعت بلوچستان کیا پاکستان کی صحافتی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے۔ جس کی صحیح اہمیت سے اس کے قارئین کیا شاید ابھی اس کے بانی اراکین بھی پورے طور آگاہ نہ ہوں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض چیزوں کی ٹھیک ٹھیک اہمیت مستقبل میں واضح ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ حال حوال کی صحیح قدر و قیمت کا تعین آنے والا وقت اور مستقبل کے قارئیں کریں گے۔ فی الوقت یہ امر خوش آئند ہے کہ اس آن لائن جریدے نے نہایت کم وقت میں اپنے قارئیں کی نہ صرف توجہ حاصل کی ہے ، بلکہ اس نے قلیل عرصے میں بلوچستان میں نئے لکھنے والوں کی ایک کھیپ تیار کی ہے ، جو بذات خود ایک نہایت اہم بات ہے۔

پڑھنا، لکھنا دونوں مشکل کام ہیں؛ حال حوال نے بلوچستان اور بیرونِ بلوچستان نوجوانوں کی ایک خاصی بڑی تعداد کو پڑھنے لکھنے اور اپنے مطالعے کے اثمار سامنے لانے پر آمادہ کیا ہے۔ اس نے بلوچستان کے اطراف و اکناف کی خبریں دینے کے ساتھ ساتھ ، نوجوانوں کو سیاسی مکالمے پر آمادہ کیا اور ان کے خیالات کو زبان دی ہے۔

بلوچستان میں گزشتہ ڈیڑھ دو عشرے کے سماجی اور سیاسی انتشار، بد امنی اور ملک گیر سطح پر دہشت زدہ صورت حال کے تناظر میں صوبے اور ملک کے نوجوان طبقے کا حال حوال کی صورت ایک مثبت سرگرمی میں مصروف و مشغول ہونا ایک صحت مند اقدام ہے؛ یہ ملک اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

حال حوال نے بلوچستان بھر کی خبریں دینے کے ساتھ ساتھ اس صوبے کے مختلف مسائل کو اجاگر کرنے میں بھی فعال کردار ادا کیا ہے اور اپنے علمی مضامین کی بدولت ایک عام آدمی کے سیاسی شعور میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔ اس کے لکھاری کئی میدانوں کے شاہسوار ہیں؛ اس کا اندازہ اس کے ان مصنفین سے لگایا جا سکتا ہے، جو مختلف اور متنوع شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنی اپنی دلچسپی کے میدانوں میں لکھتے ہیں اور کیا خوب لکھتے ہیں۔ یہ جاندار تحریریں لکھنے والے زندہ تر لوگ ہیں۔

اس تمام ستائش کا یہ مطلب نہیں کہ یہ آن لائن جریدہ ہر قسم کے نقائص سے یکسر پاک ہے؛ نہیں ایسا ہرگز نہیں۔ اس میں کچھ کمزوریاں بھی پائی جاتی ہیں۔ مثلاً بعض نوجوانوں کا اسلوب بہت جذباتی ہوتا ہے، بعض اوقات املا کی غلطیاں در آتی ہیں یا اس میں بلوچستان کے پشتون علاقوں کی خبریں بہت کم ہوتی ہیں۔ امید ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ کمزوریاں ختم ہو جائیں گی اور اس میں مزید نکھار آئے گا۔

حال حوال عوام میں مقبولیت حاصل کر چکا ہے، اس کا یہ ثبوت کافی ہے کہ اپنی پہلی ہی سالگرہ پر حال حوال اردو کے علاوہ براہوی اور بلوچی زبانوں میں بھی اشاعت کا آغاز کر رہا ہے۔ ہم اسے اس کامیابی کی مبارک باد دیتے ہوئے اس کی مزید کامیابیوں کی دعا کرتے ہیں۔

Facebook Comments
(Visited 118 times, 1 visits today)

متعلق فیصل ریحان

فیصل ریحان
فیصل riHan کا بنیادی تعلق ژوب سے ہے۔ وہ اردو کے استاد ہیں۔ شاعری اور تنقید لکھتے ہیں۔ ان کے تنقیدی مضامین کا ایک مجموعہ اور ایم فل کا مقالہ کتابی صورت میں چھپ چکے ہیں۔ بلوچستان کے عصری سیاسی تناظر سے متعلق ایک شعری مجموعہ بھی شائع ہوا ہے۔