مرکزی صفحہ / اسپیشل ایڈیشن / حال حوال کا سال / حال احوال — غلام یاسین بزنجو

حال احوال — غلام یاسین بزنجو

غلام یاسین بزنجو

ایک دن میں کچھ دوستوں کی محفل میں بیٹھ کر ملک کے سیاسی حالات اور صحافت جیسے سنگین اور حساس موضوع پر بحث و تکرار کر رہا تھا کہ اچانک فون کی گھنٹی بجی۔ فون اٹینڈ کر کے سلام دعا کرنے کے بعد جاننا چاہا کہ جناب آپ کا تعارف؟ اُس طرف سے آواز آئی کہ میں شبیر رخشانی ہوں۔

مجھے اسی وقت اندازہ ہوا کہ شبیر جان ضرور ایک اجتماعی یا قومی ایشو پر بات کرے گا۔ کیوں کہ کہ کچھ لوگوں کی ذاتی زندگی نہیں بلکہ ان کی زندگی معاشرے کے مسائل اور مختلف طبقات کو درست سمت لانے میں صرف ہوتی ہے۔

جیسے کہ عابد میر نے شبیر رخشانی جیسے نوجوانوں کو اپنے ساتھ ملا کر بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے میں عوامی مسائل، سیاسی و معاشرتی ایشوز پر نوجوانوں کو ایک سنہری موقع فراہم کیا ہے کہ وہ اخبارات کی منت سماجت کرنے کے بجائے اپنی لکھی گئی تحریریں حال حوال کو بھیجیں۔

مختصر عرصے میں حال حوال نے نہ صرف نام کمایا بلکہ بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے کے بیشتر حقیقی مسائل کو اجاگر کیا۔ اس موقع پر ہم عابد میر، شبیر رخشانی اور ان کی پوری ٹیم کو سلام ہی پیش کر سکتے ہیں۔

Facebook Comments
(Visited 472 times, 1 visits today)

متعلق غلام یاسین بزنجو

غلام یاسین بزنجو
غلام یاسین بزنجو گذشتہ بارہ برس سے صحافت سے منسلک ہیں۔ بلوچستان کے سیاسی، سماجی مسائل پہ مختلف اخبارات میں لکھتے رہتے ہیں۔ اس وقت روزنامہ بولان اور ایک خبررساں ادارے سے منسلک ہیں۔ پسنی پریس کلب کے ممبر ہیں۔ Email: yaseenghulam771@gmail.com