مرکزی صفحہ / اسپیشل ایڈیشن / حال حوال کا سال / حال حوال — ڈاکٹر برکت شاہ کاکڑ

حال حوال — ڈاکٹر برکت شاہ کاکڑ

ڈاکٹر برکت شاہ کاکڑ

حضرت سچل سرمست کا ماننا ہے کہ جب رات کی تاریکی اپنی عروج کوپہنچتی ہے تو چوٹیاں آپس میں سرگوشیاں کرنے لگتی ہیں۔ ظلمت کے لمبے ہوتے ہاتھ کہیں، گیسو کہیں، یا رات، بلوچستان کے کیس میں ہر علامت کے حروف ابجد سے جبر کے ہندسے ہی برآمد ہوں گے۔ پہلے وقتو ں میں بولنے والوں کو زبان کشی ہوتی تھی اور گانے والوں کو سرمہ کھلایا جاتا تھا۔ آج بھی یہی روایت زندہ ہے۔

حال حوال کی روایت جبر کے ہر موسم میں زندہ رہی ہے۔ جو بلوچستان کے کوہ ساروں، ریگزاروں، برف پوش پہاڑوں، لامتناہی چراہ گاہوں، کھیتوں، گاؤں، دیہات نما شہروں اور قصبوں میں انسانوں کے درمیان معنویت اور محبت سے تعبیر سماجی تفاعل کا باعث رہی ہے۔

حال حوال نے مکالمے، برداشت اور دلیل کے ابھی نئے دریچے کھولنے ہیں. مقامی (محکوم) زبانوں میں لکھنے کی پہل کاری اس ضمن میں سب سے اہم قدم ہے، جوحقیقی معنوں میں ہمیں حال حوال کی روایت اور سوال اٹھانے کی روش سے روشناس کرائے گا۔

Facebook Comments
(Visited 114 times, 1 visits today)

متعلق ڈاکٹر برکت شاہ کاکڑ

ڈاکٹر برکت شاہ کاکڑ