حال حوال —- انور بلوچ

انور بلوچ

زندگی سیکھنے اور سکھانے کا عمل ہے۔ دنیوی تعلیمات پر نظر ڈالی جائے تو ہر پہلو میں آپ کسی نہ کسی طریقے سے سیکھ رہے ہیں یا سکھا رہے ہیں۔ اس بنا پر انسان کو سماجی حیوان بھی کہا جاتا ہے۔

بعض اوقات انسان دوستوں سے بھی بہت کچھ سیکھتا ہے اور الحمدللہ یہ شرف ہمیں بھی حاصل ہوا ہے۔ اب سیکھنا کیا ہے اور آپ کی سوچ کس حد تک چیزوں کو اخذ کرتی ہے یہ ایک فطری عمل ہے۔

ویسے تو ہم نے بھی کئی دوستوں سے سیکھنے کی کوشش کی ہے، البتہ چند معروف شخصیات کے نام کا ذکر کرنا پسند کرنا چاہوں گا جن سے بہت کچھ سیکھا ہے یا ان کی قابلیت، سوچ و فکر کو دیکھ کر خود میں شرمندگی محسوس کی ہے۔

میری زندگی میں بہت سے دوستوں آئے جن سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ جن میں اپنے بچپن کے دوست اکبر جان جسے سگے بھائیوں سے بھی بڑھ کر چاہتا ہوں، اللہ پاک اس کی عمر میں برکت عطا فرمائے۔ آمین! ان سے ایک چیز یہ سیکھی کہ ان دوستوں کے ساتھ اٹھا بیٹھا کرو جو آپ کی حیثیت کے ہوں۔ ہرگز اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ آپ صاحب حیثیت لوگوں سے اٹھانا بیٹھنا چھوڑ دیں کہنے کا مقصد تھا کہ اپنا ایک دائرہ ہونا چاہیے۔ زندگی میں ان کی یہ بات ہمیشہ مجھے یاد رہ گئی۔

زندگی میں مختلف مواقع ملے خود کو کچھ بنانے میں لیکن ایک گاؤں میں رہ کر میں کیا سیکھتا! بس صبح اسکول اور اس کے بعد دادا جان کے ساتھ شام کو زمینوں پر چکر لگانے کے لیے نکلنا لیکن یہ ہے کہ دادا جان میرے لیے ایک لائبریری ہے اللہ پاک اسے زندگی دے۔ اس کے ساتھ باہر نکلنا اور بارہ بور سے شکار کرنا یہ میری بچپن سے عادت تھی۔ بعض اوقات نشان سہی نہ لگنے پر دادا جان سے ڈانٹ بھی پڑتی۔

جسا کہ اوپر ذکر ہوچکا کہ زندگی سیکھنے اور سکھانے کا عمل ہے۔ اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ 2013 میں اسلام آباد کی سرزمین پر قدم رکھنے کا شرف حاصل ہوا، جب یونیورسٹی ٹیسٹ کے لیے آنا پڑا۔ اس سفر میں میرا ہم سفر اور اسکول کا کلاس فیلو عبدالنبی مگسی بھی تھا۔ ہم جب اسلامی یونیورسٹی پہنچے تو دو نوجوان سج دھج کر آئے۔ بااخلاق اور پرکشش لوگ تھے۔ ہمیں وش آتکے کہہ کر خوش آمدید کیا۔ ہمارا بریف کیس ہاتھوں سے لیا اور ناشتہ کرانے کے لیے مدعو کیا۔ وہ دوست آج کل اسلام آباد میں اپنی ایم فل کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں؛ شاکر منظور اور اکل ہاشمی بلوچ۔ دونوں سنگت تربت کے رہنے والے ہیں۔ ہم نے بلوچ کونسل کے پلیٹ فارم پر بلوچوں کی خدمت کرنا بھی انہی سے سیکھا ۔

پھر مختلف علاقوں کے دوستوں سے سلام دعا ہوتی گئی۔ آہستہ آہستہ ہماری اجنبیت ختم ہوتی گئی۔ اسلامی یونیورسٹی کو اپنے گھر اور فیملی کی طرح سمجھنے لگے۔

ایسے ہی کچھ دوست میری نظر میں تھے جو روز سوشل میڈیا کی زینت تو بنتے رہتے لیکن ہاتھ نہ آتے۔ کہتے ہیں ڈھونڈنے والوں کو خدا بھی مل جاتا ہے۔ ہماری تلاش بھی جاری رہی۔ ایک ایک کر کے سب سے ملاقات ہوتی گئی۔ جن میں شاہ جہاں بلوچ، احسان میر، ڈاکٹر ابابگر بلوچ، بیورگ بلوچ، سعداللہ بلوچ اور ایسی بہت سی نام ور شخصیات جن سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ ان کے بات کرنے کا طریقہ اچھا لگا۔ صاحب علم ہیں۔ بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ آخر کار ان کی قلم کاری کو دیکھ کر ہم سے بھی رہا نہ گیا۔ قلم کو جنبش میں لانا پڑا ۔

پہلے پہل جب لکھنے کا عمل شروع کیا تو کئی ہفتے موضوع کا انتخاب مشکل ہو جاتا۔ پھر اچانک ایک دن پتہ چلا کہ دو بلوچ نوجوان جنہوں نے سی ایس ایس کے امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے، ان کے نام چند تعریفی کلمات ہی لکھ لیں۔ وہی ہماری پہلی تحریر تھی۔ مگر لکھنے کے فورا بعد بیگ میں چھپا دی۔ کئی دن یہی سوچ کر چھپائے رکھی کہ دوست دیکھ کر کیا کہیں گے۔ عجیب سی کیفیت میں مبتلا ہوگیا تھا۔ خیر ہمت تو آ گئی کہ اب شائع ہونے کے لیے کس کو دیں۔

سائیٹس ڈھونڈنے لگا۔ اچانک ایک لنک دیکھا، حال احوال کے نام سے۔ پوچھ لیا دوستوں سے کہ یہ کہاں سے چلتی ہے؟ آخرکار پتہ چل گیا کہ اسے چلانے والے تو آپ کے اپنے شہر کے ہی ہیں۔ پہلے سوچا اگر بات نہیں مانی تو کسی علاقے کے وڈیرے سے فون کروا دوں گا، لیکن مجھے کیا پتہ وہ شخصیت اتنی نرمی اور شفقت سے پیش آئے گی۔

تحریر شائع ہونے کے بعد اور بھی ہمت بڑھتی گئی۔ مشکلات آسان ہونے لگیں۔ سوچا بس یہی کام جاری رکھوں گا اور مستقل مزاجی کے ساتھ جاری بھی ہے۔

وہ دو نوجوان جو میری تحریر کا موضوع اور اس میدان میں آغاز کا سبب بنے، وہ منور مگسی اور منصور قاضی صاحب ہیں، جنہوں نے مقابلے کے امتحان میں کامیابی حاصل کی تھی ۔ ان کے نام لکھی تحریر "محنت کا ثمر” آج بھی حال احوال پر موجود ہے ۔

حال احوال ایک منفرد پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ بلوچستان کے نوجوانوں میں کمیونیکیشن کی ایک نئی تاریخ رقم کر چکا ہے۔ باصلاحیت نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مزید نکھار دیا ہے اور بہت سارے چہرے سامنے لانے میں بھی اپنی مثال آپ ہے۔

حال احوال کی بدولت بہت سے لکھاری سامنے آئے ہیں جن کو پڑھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ واقعی بلوچستان میں کسی ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔

حال احوال کے ایڈیٹر عابد میر اپنے قریبی دوست اور رشتہ دار ارشاد مستوئی کی خدمات کو آگے بڑھانے کے لیے ہم نے بھی اپنا حصہ ڈالنا شروع کیا اور ان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے حال احوال کو وقتا فوقتا متعارف کرواتے رہے۔

حال احوال سے مجھے میرے شہر کے غریب باسی ملے جو کہ لکھنے کے انداز کو منٹو صاحب سے جوڑتے رہتے ہیں، جیسے کہ بیرک کارمل جمالی صاحب سماجی شخصیت ہیں۔ علاقی نقطہ نظر کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر بھی لکھتے رہتے ہیں۔ ان کے بعد منظور مینگل جو آج کل ہمارے دل کی دھڑکن ہونے کے ساتھ بہت سے لوگوں کے دل میں بسے ہوئے ہیں۔

ہمارے ایک اور محترم دوست بھی ہمیں حال حوال کی بدولت نصیب ہوئے۔ ذوالفقار علی زلفی ہمارے ساتھ رہ کر انڈین فلموں پر اچھی خاصی مہارت رکھتے ہیں۔ انڈینز کو بھی یاد نہیں کہ آنے والے دنوں میں کیا کرنا ہے یہ صاحب پہلے سے تحریر شائع کروا دیتے ہیں۔ فلم اسٹارز کو خود یاد نہیں ہوتا کہ ہمارا جنم دن کب ہے لیکن زلفی صاحب کے قلم سے بچتے نہیں۔ جنم دن کے پیغامات بھیج دیے جاتے ہیں۔

اور بہت سے نام ہیں حال احوال کی بدولت ملے ہیں، جیسا کہ شبیر رخشانی صاحب اور نجیب اللہ بھائی۔ بہت سے اہم موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔ حال احوال کی ٹیم میں بھی ہوتے ہیں۔ پڑھ کر بہت خوشی ہوتی ہے۔

آخر میں اتنا کہوں گا کہ میرا ایک استاد ہے تحریر کے حوالے سے۔ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ حال احوال ٹیم سے پر زور اپیل کرتا ہوں اپنے کالم نگاروں میں انہیں بھی شامل کریں۔ سوشل میڈیا پر روزانہ لکھتا رہتا ہے لیکن فیس بک پر چند فرینڈز پڑھ لیتے ہیں۔ اگر وہ اس ادارے کا حصہ بنیں تو یقینا ہم جیسے لوگوں کو اور بھی فائدہ ہوگا۔ پیارے دوست کا نام محمد امین مگسی ہے۔

باقی ہم انتے قابل نہیں کہ حال احوال کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنی تجاویز پیش کر سکیں۔

ایک اچھا اقدام ہے۔ اللہ پاک چلانے والوں کو استقامت عطا فرمائے، آمین ۔

اتنا ضرور کہوں گا آج جو کچھ بھی ہوں، جیسا بھی ہوں، کچھ لکھ لیتا ہوں، یہ سب حال حوال کی بدولت ہے۔

Facebook Comments
(Visited 279 times, 1 visits today)

متعلق انور بلوچ

انور بلوچ
جعفرآباد کا یہ نوجوان اِن دنوں اسلام آباد میں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ پڑھنے کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سماجی حالات پر بھی خامہ فرسائی کرتے رہتے ہیں. ای میل: anwar.zehri@gmail.com