مرکزی صفحہ / خصوصی حال / گجرانوالہ کی بلوچ بستی

گجرانوالہ کی بلوچ بستی

شبیر رخشانی

تاریخ میں بلوچ بہاردی کے قصے بہت ملتے ہیں۔ بلوچوں کی وفاداری تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ کہیں دور نہ جائیے، بلوچ کے اس قول کو یاد کیجیے؛ ’’ تاس ئے آپ بور صد سال وفا بکن‘‘ کسی کا ایک کٹورہ پانی پی لیجیے اور سو سال تک وفا نبھائیے۔ یہ بلوچوں کی روایت کا حصہ ہے۔ جہاں اس کی وفاداری مشہور ہے وہیں دشمنی پر اتر آئے تو ہزار سال تک اپنی دشمنی بھولتا نہیں ہے۔ دشمن کے ساتھ دشمنی احسن طریقے سے نبھاتا چلا آ رہا ہے۔ جس کا خمیازہ یقیناً اس کی ہر اس نسل کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ جو اپنی سرزمین سے دور کہیں اور بسیرا لیا ہوا ہے۔ وہاں وہ کن حالات سے دوچار ہے، اسے کن مشکلات کا سامنا ہے، ان کی آنے والی نسل کو کن مسائل کا سامنا ہے، اس سے بلوچوں کی موجودہ نسل بیگانہ ہے۔ جدوجہد قربانی کا تقاضا کرتی ہے۔

آئیے آپ کو ایک بستی کی آنکھوں دیکھا حال سناتے ہیں۔ بلوچوں کی کہانی جو رند و لاشار کی دہائیوں پر محیط جنگ سے نقل مکانی کر گئے۔ جی ہم آپ کو سنانے جا رہے ہیں پنجاب کی سرزمین گجرانوالہ کی ایک بستی بلوچ کالونی، جہاں چار سو سے زائد بلوچ گھرانے گزشتہ ایک صدی سے آباد ہیں۔ صدی ایک وسیع دورانیہ ہوتی ہے۔ لیکن یہ صدی بلوچستان سے دور ان بلوچوں کی زبان و ثقافت پر اثرانداز نہیں ہو سکی۔ آج بھی ان کے گھروں میں بلوچی زبان بولی جاتی ہے۔ بلوچی روایات آج بھی ان کے ہاں زندہ ہے۔ بیٹھک کا نظام آج بھی قائم ہے۔ گلے ملنے کی روایت آج بھی برقرار ہے۔ ان کے خواتین آج بھی بلوچی پوشاک زیب تن کرنا پسند کرتی ہیں۔ ان کے ہاں آج بھی مہمان نوازی کی روایت برقرار ہے۔ لیکن بلوچ ہونے کے ناطے انہیں پنجاب کی سرزمین پر بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔ نہ ہی سرکاری اداروں میں ان کے لیے روزگار کے مواقع موجود ہیں، نہ ہی کوئی سیاسی پلیٹ فارم جہاں انہیں اپنے مسائل پر گفتگو کرنے کا موقع ملے۔ بلوچستان سے دور پنجاب کی سرزمین پر آباد یہ بلوچ اب بھی عام بلوچ اور بلوچ سیاسی جماعتوں سے توقع لگائے بیٹھے ہیں۔ کسی طرح یہ ان کے مسائل کم کرنے میں ان کے کام آ سکیں۔

طالش بلوچ ایک تعلیم یافتہ نوجوان ہیں۔ وہ بلوچ کالونی کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔ وہ اانہی مسائل پر حکومتی نمائندوں سے بات کر چکے ہیں لیکن کہیں بھی شنوائی نہیں ہو رہی ہے۔ بلوچ کالونی کے تعلیم یافتہ نوجوان یہی امید لگائے بیٹھے تھے کہ تالش کو کہیں نہ کہیں سرکاری ملازمت مل جائے گی۔ لیکن دو سال تک اسلام آباد سیکرٹریٹ میں ٹھوکریں کھانے کے باوجود انہیں روزگار نہیں مل سکا تو انہوں نے پرائیوٹْ کمپنی میں ہی ملازمت کرنے کو ترجیح دی۔ میرے قریب بیٹھے نوجوان سکندر بلوچ جو قدرے خاموش دکھائی دے رہے تھے، بول پڑے: ’’ ہماری امیدوں کا مرکزو محور تالش بلوچ کے روزگار سے وابسطہ تھا، لیکن جب طالش کو سرکاری روزگار نہیں مل سکا تو ہماری ساری امیدیں دم توڑ گئیں۔ اب ہمارے محلے کے بیشتر لوگ اپنے بچوں کو اس بنیاد پر اسکول نہیں بھیجتے کہ حصولِ تعلیم کے باوجود حکومتی اداروں میں روزگار نہیں ملتا تو بہتر ہے کہ بچوں کو مزدوری پر لگایا جائے‘‘۔

بلوچ کالونی میں اس وقت 140 سے زائد نوجوان اس بنیاد پر قومی شناختی کارڈ سے محروم ہیں کہ ان کی قومیت کے خانے میں بلوچ لکھا ہے۔ تالش کا کہنا ہے، ’’ نادرا آفس والے ہم پر زور ڈال رہے ہیں کہ لفظ بلوچ کو حذف کریں تب ہم آپ لوگوں کے شناختی کارڈ بنائیں گے۔ لیکن ہم ایسا ہرگز نہیں کریں گے۔ ہماری پہچان بلوچ اور بلوچ قومیت سے جڑی ہوئی ہے۔ ہم اس پہچان کو ہرگز ختم نہیں کریں گے۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ ہم دوسری قوموں کے ساتھ شادی بیاہ اس لیے نہیں کرتے کہ اس سے ہماری زبان و ثقافت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو گا۔

اسی محفل میں بیٹھے ایک اور نوجوان فیصل بلوچ کا کہنا تھا کہ ہم بلوچوں کے پاس لیڈرشپ کی کمی ہے۔ اگر آج لیڈرز ہوتے تو یقیناً ہمیں ایسے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ سینیٹر ثنا بلوچ میں لیڈرشپ کی کوالٹی موجود ہے۔ ایک مرتبہ جب ہم اپنے علاقائی مسائل لے کر ان کے پاس گئے تو نہ صرف انہوں نے ہمیں خوش آمدید کہا بلکہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اسمبلی فورم پر آواز بلند کی۔ اس وقت ہمارے چاروں جانب دلاور بلوچ، ہاشم بلوچ، عرفان بلوچ، الفت بلوچ، سخیداد بلوچ ، چھوٹی بچی ماہ نور بلوچ اور دیگر بیٹھے ہماری گفتگو سن رہے تھے۔ فیصل کا کہنا تھا کہ ان کا قبیلہ رند ہے لیکن وہ اپنے نام کے ساتھ لفظِ بلوچ کا لاحقہ استعمال کرنا پسند کرتے ہیں۔

بلوچ کالونی میں داخلے سے قبل پناہ بلوچ نے اس گاؤں میں بلوچوں کی موجودگی اور وہاں کے لوگوں کے حوالے سے جو نقشہ میرے سامنے کھینچا تھا، وہ ناقابلِ تھا۔ وہاں پہنچنے پر حقائق مجھ پر آشکار ہو رہے تھے کہ بلوچ جہاں بھی رہے ااپنی روایاات اور رسم و رواج کو نہیں بھولتا۔ سب سے اہم بات یہ کہ گجرانوالہ کی اس بلوچ بستی نے زبان و ثقافت کو آج بھی زندہ رکھا ہے۔ گو کہ پنجاب کے بلوچوں کے مسائل بلوچستان کے بلوچوں سے قدرے مختلف ہیں، یہ نہ آزادی پسند ہیں اور نہ ہی مسلح۔ لیکن انہیں انہی رویوں کا سامنا ہے جن کا آج بلوچستان کا باشندہ سامنا کر رہا ہے۔ بقول عرفان بلوچ یہاں تک کہ یہ حربے بھی آزمائے جا رہے ہیں کہ اس بستی پر چھاپہ مار کاروائیاں کی جائیں۔

اس بستی کے بلوچوں کو درپیش ان مسائل اور ان کو لاحق خطرات سے نہ ہی بلوچ سیاسی جماعتیں اور نہ ہی عام بلوچ واقف ہے۔ نہ اس بستی کے لوگوں کے پاس ایسا سیاسی اور معاشی نظام موجود ہے جو انہیں مستقبل کی ضمانت فراہم کر سکے۔ اگر آنے والے وقتوں میں ان بلوچوں کے تشخص پر کوئی آنچ آئی تو اس کی ذمہ داری بلوچستان اور وفاق میں بیٹھے ان بلوچ سیاسی رہنماؤں پر عائد ہوں گی جو قومیت کے نام پر اپنے سیاسی وجود کا دعویٰ کرتے ہیں۔

Facebook Comments
(Visited 1,179 times, 1 visits today)

متعلق شبیر رخشانی

شبیر رخشانی
آواران کا یہ نوجوان کل وقتی صحافی ہو کر بھی حرف کی حرمت سے نہ صرف آگاہ ہے بلکہ اسے برتنا بھی جانتا ہے۔ شبیر رخشانی اِن دنوں "حال حوال" کا کرتا دھرتا بھی ہے۔ rakhshanibaloch@gmail.com https://web.facebook.com/shabir.rakhshani
  • A.S

    بلوچ کالونی گجرانوالہ کا حال احوال بتانے کا بہت بہت شکریہ
    یہ ایک بالکل نئی معلومات تھی

  • Naqqash Ali Baloch

    Salam waja Shabbeer Rakhshani,
    Man Naqqash Ali Baloch, Gujranwala e Baloch basti e neshtagena, Man tra gun lahten gaal o gap kanag lota’n….
    Mani cell # 0343-6080042 & 0300-7449449 ant